📌 اہم نکاتبی جے پی سانے نیشیکانت دوبے نے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی قومی سطح پر سیاسی مستقبل پر سوال اٹھائےدوبے کا کہنا: “2017 میں لوگوں نے مودی جی کے نام پر ووٹ دیا تھا، نہ کہ یوگی کے نام پر”بیان نے سیاسی حلقوں میں بحث چھیڑ دی، تجزیہ کار اسے بی جے پی کی قیادت میں ہونے والی تبدیلیوں کی علامت قرار دے رہے
بیان کی تفصیلات
بی جے پی کے سینئر رہنما اور جھارکھنڈ سے سانے نیشیکانت دوبے نے ایک پوڈکاسٹ میں وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی سیاسی مستقبل کے بارے میں غیر معمولی بیان دیا۔ دوبے نے واضح کیا کہ “یوگی آدتیہ ناتھ آج وزیراعلیٰ ہیں لیکن 20-25 سال بعد دہلی (مرکزی قیادت) میں جگہ خالی نہیں ہے”۔ انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل کی سیاسی صورت حال کا تعین کرنا قبل از وقت ہوگا۔
سیاسی سیاق و سباق
یوپی میں بی جے پی کی کامیابیوں کو یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت سے منسوب کیا جاتا رہا ہے۔ تاہم دوبے کے بیان نے اس روایتی سوچ کو چیلنج کیا ہے۔ ان کا اصرار ہے کہ “2017 میں یوپی کے عوام نے وزیراعظم نریندر مودی کے نام پر ووٹ دیا تھا، نہ کہ یوگی کے نام پر”۔ دوبے نے دیگر ریاستی قائدین جیسے ہی مانتا بسوا سرما (آسام) اور دیویندر فڈنویس (مہاراشٹر) کا بھی تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ “پسندیدگی کسی ایک رہنما تک محدود نہیں”۔
بی جے پی کی قیادتی ساخت
دوبے نے پارٹی کے اندرونی ڈھانچے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: “ہماری پارٹی میں صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں”۔ انہوں نے گزشتہ انتخابی کامیابیوں کا سہرا وزیر داخلہ امیت شاہ کو دیتے ہوئے کہا کہ “370 آرٹیکل کے خاتمے اور نکسلیت کے خلاف کارروائیوں نے پارٹی کو عوامی مقبولیت دی”۔
تجزیہ: بیان کے سیاسی مضمرات
سیاسی مبصرین کے مطابق دوبے کا بیان بی جے پی کی قیادت میں آنے والی نئی لہر کی نشاندہی کرتا ہے۔ ڈاکٹر رفیق احمد (سیاسی تجزیہ نگار) کا کہنا ہے: “یہ بیان پارٹی کے اندر موجود مختلف دھڑوں کی عکاسی کرتا ہے”۔ دوسری جانب، سماج وادی پارٹی کے ترجمان نے اسے “بی جے پی کی اندرونی بے چینی” قرار دیا۔
سوشل میڈیا ردعمل
ٹوئٹر پر #YogiVsDubey ٹرینڈ کر رہا ہے۔ صارفین کی ایک بڑی تعداد دوبے کے بیان کو “بی جے پی کی روایتی یکجہتی کے خلاف” قرار دے رہی ہے۔ سیاسی تجزیہ کار پونم سنگھ نے ٹوئٹ کیا: “دوبے کا بیان بی جے پی کی نسل نو کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے”۔
یوگی آدتیہ ناتھ کا عوامی اثر
اگرچہ دوبے نے یوگی کی مقبولیت پر سوال اٹھائے، لیکن گزشتہ انتخابات میں یوپی میں بی جے پی کی تاریخی کامیابیوں میں یوگی کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ 2017 اور 2022 کے اسمبلی انتخابات میں ان کی قیادت میں بی جے پی نے واضح اکثریت حاصل کی۔
مستقبل کے امکانات
سیاسی مبصرین کے مطابق یوگی آدتیہ ناتھ فی الحال یوپی کی سب سے مقبول سیاسی شخصیت ہیں۔ تاہم دوبے کے بیان نے مرکزی قیادت میں ان کے عروج کے امکانات پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس بیان کے سیاسی اثرات کا تعین ہونا باقی ہے۔
(رپورٹ: اردوپلیس نیوز بیورو)