📌 اہم نکاتوزیراعظم نریندر مودی کی زیرصدارت مرکزی کابینہ نے یکم جولائی کو قومی کھیل پالیسی 2025 کو منظوری دیاولمپکس 2036 کی میزبانی کے حتمی مقصد کے ساتھ پالیسی کے پانچ اہم ستون: ٹیلنٹ ڈویلپمنٹ، مقابلہ جات، کوچنگ، انتظامیہ بہتری اور ٹیکنالوجیپالیسی کا ہدف: ہر گاؤں سے اولمپک کھلاڑی تلاش کرنا، خواتین اور پسماندہ طبقوں کو مواقع فراہم کرنا
بھارت کے کھیلوں میں انقلاب کا اعلان
بھارت نے اولمپکس 2036 کی میزبانی کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کیلئے تاریخی قدم اٹھایا ہے۔ یکم جولائی کو وزیراعظم نریندر مودی کی زیرصدارت ہونے والے مرکزی کابینہ کے اجلاس میں قومی کھیل پالیسی 2025 کو حتمی منظوری دے دی گئی۔ یہ پالیسی 2001 کی پرانی اسکیم کی جگہ لے گی اور ملک کو عالمی کھیلوں کی طاقت بنانے کیلئے ایک جامع روڈ میپ فراہم کرے گی۔
کیوں اہم ہے یہ پالیسی؟
ذرائع کے مطابق، نئی پالیسی صرف کھلاڑیوں تک محدود نہیں بلکہ پورے معاشرے کو کھیلوں کے ذریعے صحت مند اور فعال بنانے کا وژن رکھتی ہے۔ اولمپکس 2036 کی تیاری کو مرکزی نقطہ بناتے ہوئے اس میں دیہی اور شہری دونوں علاقوں سے ٹیلنٹ کو تلاشنے اور پرورش دینے کا واضح لائحہ عمل شامل کیا گیا ہے۔
پانچ ستونوں پر کھڑی پالیسی
پالیسی کی کامیابی کیلئے پانچ بنیادی ستون طے کئے گئے ہیں:
1. جڑوں سے اعلیٰ سطح تک ٹیلنٹ کی تلاش
ہر گاؤں، ہر محلے سے کھیلوں کی صلاحیت رکھنے والے نوجوانوں کو تلاش کرنے کیلئے خصوصی مہم چلائی جائے گی۔ اسکول سطح سے لے کر قومی کیمپس تک ہر مرحلے پر مالی و تکنیکی مدد فراہم کی جائے گی۔
2. مقابلہ جات کا نیٹ ورک
دیہی علاقوں میں مقامی لیگز اور شہروں میں پیشہ ورانہ مقابلے منعقد کروائے جائیں گے تاکہ کھلاڑیوں کو مسلسل چیلنج ملتا رہے۔
3. عالمی معیار کی کوچنگ
ملک بھر میں جدید ترین تربیتی مراکز قائم کئے جائیں گے جہاں کھلاڑیوں کو بین الاقوامی کوچز اور سائنس دانوں کی رہنمائی میسر آئے گی۔
4. انتظامیہ کی بہتری
قومی کھیل فیڈریشنز کو مزید مضبوط بنایا جائے گا اور ان کے کام کرنے کے طریقہ کار میں شفافیت لائی جائے گی۔
5. ٹیکنالوجی کا استعمال
مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا اینالیٹکس کے ذریعے کھلاڑیوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے خصوصی سافٹ ویئر تیار کئے جائیں گے۔
معاشی مواقع اور سماجی شمولیت
پالیسی کا ایک اہم پہلو کھیلوں کو روزگار سے جوڑنا بھی ہے۔ نوجوانوں کیلئے کھیلوں کی صنعت میں کیریئر کے نئے راستے کھولے جائیں گے جبکہ اسٹارٹ اپس اور پرائیویٹ سیکٹر کی شرکت کو بھی فروغ دیا جائے گا۔ خواتین، قبائلی برادری اور معذور افراد کیلئے خصوصی اسکیمز بنائی گئی ہیں تاکہ کھیلوں کے میدان میں ان کی نمائندگی یقینی بنائی جا سکے۔
وزیر کھیل کا اہم بیان
کھیل وزیر منسکھ منڈاویا نے اردوپلیس سے خصوصی بات چیت میں کہا: “یہ پالیسی صرف تمغے جیتنے کیلئے نہیں بلکہ ہر ہندوستانی کو صحت مند زندگی دینے کیلئے بنائی گئی ہے۔ ہمارا ہدف ہے کہ 2036 تک بھارت اولمپکس کی میزبانی کا اہل بن جائے۔”
تعلیمی نظام میں انقلابی تبدیلیاں
پالیسی کے تحت اسکولوں میں کھیلوں کو لازمی مضمون بنایا جائے گا۔ طلباء کیلئے ‘فٹنس انڈیکس’ متعارف کرایا جائے گا جبکہ اساتذہ کو جدید کھیلوں کی تربیت دی جائے گی۔ ہر یونیورسٹی میں کھیلوں کی سہولیات کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
پالیسی کے اعلان پر سوشل میڈیا پر ہندوستانی شہریوں نے خوشی کا اظہار کیا۔ کئی سابق اولمپک کھلاڑیوں نے اسے “بھارت کے کھیلوں کی تاریخ کا سنہری دن” قرار دیا۔ نوجوانوں نے خصوصی طور پر دیہی علاقوں میں کھیلوں کی سہولیات بہتر بنانے کے وعدے کی تعریف کی۔
مستقبل کا روڈ میپ
ذرائع کے مطابق حکومت نے پالیسی کو کامیاب بنانے کیلئے 6 نکاتی حکمت عملی تیار کی ہے جس میں نجی شعبے کی شراکت داری، ٹیکنالوجی کا استعمال اور تمام ریاستی حکومتوں کو ساتھ ملانا شامل ہے۔ ہر وزارت کو کھیلوں کی ترقی کیلئے مخصوص بجٹ مختص کرنا ہوگا۔
(رپورٹ: اردوپلیس نیوز بیورو)