📌 اہم نکات
– لالو یادو بغیر کسی مقابلے کے ریجنل پارٹی کے قومی صدر منتخب
– ایل جے پی کے ارون بھارتی نے انتخابی عمل کو ‘آمرانہ’ قرار دیتے ہوئے خاندانی تسلط پر تنقید کی
– تیجسوائی یادو کی خاموشی اور مخالف جماعتوں کا الزام: ‘پارٹی صرف یادو خاندان کی جاگیر’
بغیر مقابلے کیسے جیتے لالو؟
ریجنل پارٹی کے قومی اجلاس میں لالو یادو نامزدگی دائر کرنے والے واحد امیدوار تھے۔ پارٹی قوانین کے مطابق، بغیر مقابلے کے انہیں صدر منتخب کر لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق کسی بھی رہنما نے ان کے خلاف کھڑے ہونے کی جرات نہیں کی۔
مخالفین کا شدید ردعمل
ایل جے پی کے سینیئر رہنما ارون بھارتی نے اسے “جماعتی جمہوریت کی موت” قرار دیتے ہوئے کہا:
“جب ایک ہی خاندان 30 سال سے صدارت پر قابض ہو تو یہ بادشاہت ہے، جمہوریت نہیں۔ تیجسوائی جمہوریت کی بات کرتے ہیں مگر ان کی اپنی پارٹی میں رائے دہی کا حق نہیں۔”
خاندانی سیاست پر سوالات
1997 میں قائم ہونے والی ریجنل پارٹی میں لالو یادو، ان کی اہلیہ رابڑی دیوی اور بیٹے تیجسوائی یادو مسلسل کلیدی عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ سیاسی تجزیہ نگار ڈاکٹر عرفان احمد کا کہنا ہے:
“یہ انتخابی عمل ظاہر کرتا ہے کہ ریجنل پارٹی اب ایک ذاتی جاگیر بن چکی ہے جہاں خاندان کے سوا کسی کو موقع نہیں ملتا۔”
تیجسوائی کی پراسرار خاموشی
پارٹی کے نائب صدر تیجسوائی یادو نے اس انتخاب پر کوئی عوامی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ تاہم پارٹی ترجمان نے دفاع کرتے ہوئے کہا:
“لالو جی ہماری روح ہیں۔ ان کی قیادت پر کسی کو اعتراض نہیں ہو سکتا۔”
بہار انتخابات پر ممکنہ اثرات
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ واقعہ 2025 کے بہار اسمبلی انتخابات میں اہم کردار ادا کرے گا۔ بی جے پی اور جے ڈی یو جیسی جماعتیں اسے “خاندانی جمہوریت” کے خلاف اپنی مہم کا مرکز بنانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
(رپورٹ: اردوپلیس نیوز بیورو)