دہلی میں یمنا کا آبی سطح خطرے کی حد کو چھونے لگا، ہزاروں افراد کے لیے فوری انخلاء کی تیاریاں
📌 اہم نکات
یمنا کا آبی سطح 204.1 میٹر پر پہنچ گیا جو 205 میٹر کے خطرے کی حد سے محض 0.9 میٹر کم ہے
پرانے لوہے کے پل کے قریبی علاقوں میں رہنے والے ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی تیاریاں
دہلی انتظامیہ نے 24 گھنٹے مانیٹرنگ سسٹم قائم کرتے ہوئے ہنگامی ٹیمیں تعینات کر دی ہیں
یمنا کا بڑھتا آبی سطح دہلی کے لیے خطرے کی گھنٹی
دہلی کی شریان حیات کہلانے والا یمنا دریا آج ایک بار پھر دارالحکومت کے لیے تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ پرانے لوہے کے پل کے قریب یمنا کا آبی سطح 204.1 میٹر تک پہنچ گیا ہے، جو 205 میٹر کے خطرے کی حد سے محض 0.9 میٹر کی مسافت پر ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف مقامی باشندوں کے لیے پریشانی کا باعث ہے بلکہ دہلی انتظامیہ کو بھی فوری اقدامات اٹھانے پر مجبور کر دیا ہے۔
موسمیات کے ماہرین کے مطابق مون سون کی شدت اور اوپری علاقوں میں مسلسل بارشوں کی وجہ سے یمنا میں پانی کا اضافہ ہو رہا ہے۔ ہریانہ اور اتراکھنڈ سے آنے والا پانی دہلی کے یمنا میں آکر ملتا ہے، جس سے دریا کا حجم بڑھ جاتا ہے۔ یہ قدرتی عمل ہر سال ہوتا ہے لیکن اس بار صورتحال زیادہ سنگین نظر آ رہی ہے۔
انتظامیہ کی جانب سے فوری اقدامات
دہلی ڈزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (DDMA) نے صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر ایکشن پلان متحرک کر دیا ہے۔ تمام متعلقہ محکموں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے اور پولیس، فائر بریگیڈ، سول ڈیفنس کی ٹیمیں مسلسل گشت کر رہی ہیں۔ خاص طور پر یمنا کے کنارے واقع نچلے علاقوں کی نگرانی تیز کر دی گئی ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اگر آبی سطح 205 میٹر کی حد کو عبور کر جاتا ہے تو فوری طور پر متاثرہ علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا ہوگا۔ اس کے لیے عارضی کیمپ قائم کرنے کی تیاریاں بھی مکمل کر لی گئی ہیں۔ تمام ضروری اشیاء جیسے خوراک، پانی، دوائیں اور کپڑے کا انتظام کیا جا چکا ہے۔
متاثرہ علاقوں کی صورتحال
یمنا کے کنارے واقع علاقوں میں کشتیاں، ماجھی گھاٹ، گیتا کالونی، یمنا بازار اور راج گھاٹ کے آس پاس کے نچلے علاقے سب سے زیادہ خطرے میں ہیں۔ یہاں ہزاروں خاندان رہتے ہیں جن میں اکثریت مقامی کاروباری اور مزدور طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان علاقوں میں پانی کا اضافہ ہونے سے نہ صرف گھر متاثر ہوتے ہیں بلکہ کاروبار بھی تباہ ہو جاتا ہے۔
مقامی باشندے اپنی پریشانیوں کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہر سال موسم برسات میں یہی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔ حکومت عارضی اقدامات تو کرتی ہے لیکن مستقل حل کے لیے کوئی جامع منصوبہ نظر نہیں آتا۔ یمنا کی صفائی اور اس کے کنارے بہتر انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسے حالات سے بچا جا سکے۔
ماہرین کی رائے اور تجاویز
ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یمنا میں پانی کا بڑھنا قدرتی عمل ہے لیکن اس کے منفی اثرات کم کرنے کے لیے بہتر منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ دریا کے کنارے غیر قانونی تعمیرات کو ہٹانا، ڈریجنگ کا کام مکمل کرنا اور بہتر ڈرینج سسٹم بنانا ضروری ہے۔ کلائمیٹ چینج کے اثرات کو دیکھتے ہوئے آئندہ سالوں میں یہ مسئلہ مزید سنگین ہو سکتا ہے۔
ہائیڈرولوجسٹ ڈاکٹر رام کشن کا کہنا ہے کہ یمنا کا موجودہ ڈیزائن 1960 کی دہائی کے مطابق ہے جبکہ آج کی ضروریات بالکل مختلف ہیں. شہرکاری کی وجہ سے پانی کا بہاؤ تیز ہو گیا ہے اور کم وقت میں زیادہ پانی دریا میں آتا ہے. اس لیے فلڈ منیجمنٹ سسٹم کو جدید بنانا ضروری ہے۔
حکومتی اقدامات اور مستقبل کی منصوبہ بندی
دہلی حکومت نے یمنا کی بہتری کے لیے کئی طویل مدتی منصوبے شروع کیے ہیں۔ یمنا ایکشن پلان کے تحت دریا کی صفائی، کنارے کی تعمیر نو اور بہتر آبی نکاسی کا نظام بنانے کا کام جاری ہے۔ تاہم یہ منصوبے مکمل ہونے میں وقت لگے گا اور اب تک کے نتائج حوصلہ افزا نہیں ہیں۔
حکومت کا اعلان ہے کہ اگلے دو سالوں میں یمنا کے کنارے واقع تمام غیر قانونی تعمیرات کو ہٹا دیا جائے گا اور ان علاقوں کو سبز پارکوں میں تبدیل کیا جائے گا۔ اس سے نہ صرف فلڈ کنٹرول میں مدد ملے گی بلکہ دریا کی صحت بھی بہتر ہوگی۔ ساتھ ہی ساتھ شہریوں کے لیے تفریحی مقامات بھی میسر آئیں گے۔
شہریوں کو احتیاطی تدابیر
موجودہ صورتحال میں یمنا کے کنارے رہنے والے لوگوں کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے قیمتی سامان کو محفوظ مقام پر رکھیں اور انتظامیہ کی جانب سے دی جانے والی ہدایات پر عمل کریں۔ ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر 112 نمبر پر کال کریں۔ بچوں اور بزرگوں کا خاص خیال رکھیں اور غیر ضروری سفر سے بچیں۔
صحت کے شعبے میں کام کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ بارش اور سیلاب کے بعد پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے صاف پانی استعمال کریں، کھانے کی اشیاء کو محفوظ رکھیں اور صفائی کا خاص خیال رکھیں۔ اگر کوئی علامات نظر آئیں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔
موسمی حالات اور آئندہ کی پیشن گوئی
محکمہ موسمیات کے مطابق اگلے 48 گھنٹوں میں دہلی اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں ہلکی سے درمیانی بارش کا امکان ہے۔ یہ بارش یمنا کے آبی سطح میں مزید اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔ اگرچہ شدید بارش کا امکان کم ہے لیکن احتیاط ضروری ہے۔ اوپری علاقوں میں ہونے والی بارش کا اثر 24 سے 48 گھنٹوں بعد دہلی پہنچتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگست کے مہینے میں عام طور پر یمنا کا آبی سطح زیادہ رہتا ہے کیونکہ اس وقت مون سون اپنے عروج پر ہوتا ہے۔ ستمبر کے بعد حالات بہتر ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ تاہم کلائمیٹ چینج کی وجہ سے موسمی پیٹرن بدل رہا ہے اور غیر متوقع حالات پیدا ہونے کا امکان رہتا ہے۔
دہلی کے Chief Secretary نے تمام ضلعی حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں بہتر انتظامات کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیار رہیں۔ پمپنگ سٹیشنز کو چیک کیا جا رہا ہے اور ضرورت کی تمام مشینری کو تیار رکھا گیا ہے۔
یمنا کا یہ بحران دہلی کے لیے نئی بات نہیں ہے لیکن ہر بار یہ یاد دلاتا ہے کہ شہری منصوبہ بندی میں ماحولیاتی عوامل کو نظرانداز کرنا کتنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ امید ہے کہ حکومت اور شہری مل کر اس مسئلے کا مستقل حل نکالیں گے تاکہ آئندہ نسلوں کو ایسے خطرات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
(رپورٹ: اردوپلیس نیوز بیورو)