مدارس بند کرنے کی سازش کا الزام لگانے والے مولانا رضوی کی دھواں دار تقریر
📌 اہم نکات
مولانا شاہابُدّین رضوی نے بَریلی میں 250 مدارس کو بند کرنے کے نوٹسز کو “غیر آئینی” قرار دیا۔
ان کا کہنا ہے کہ حکومت مدارس بند کر کے مسلمانوں کو تعلیم سے دور رکھنا چاہتی ہے۔
قضائی استثنائی حقوق کے تحت مدارس کو فوری طور پر رجسٹریشن دی جائے یا نوٹسز واپس لیے جائیں۔
پس منظر اور مقدمہ
بَریلی ضلع میں تحصیل دار کے ماتحت دفترِ ترقی شعبہ نے دو دن قبل تقریباً ڈھائی سو مدارس کو بند کرنے کے نوٹسز جاری کیے۔ نوٹس میں کہا گیا کہ یہ ادارے حکومتی معیار اور رجسٹریشن کے بغیر چل رہے ہیں، لہٰذا انہیں تعلیمی کاروائی روکنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
مولانا شاہابُدّین رضوی کا ردِ عمل
مولانا شاہابُدّین رضوی، جو بریلوی سنی عالم اور All India Tanzeem Ulama-e-Islam کے جنرل سیکریٹری ہیں، نے لاہور کے ضلعی افسر کی جانب سے نوٹسز کو “سازشی اور غیر قانونی” قرار دیتے ہوئے عدالت میں چیلنج کرنے کا عندیہ دیا۔ انہوں نے کہا:
”حکومت کے پاس مدارس بند کرنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں۔ آئین کم از کم ضمانت دیتا ہے کہ اقلیتی ادارے تعلیم کے حق سے محروم نہیں کیے جا سکتے۔“
سابقہ حکومتی رویے کا حوالہ
مولانا نے یاد دلایا کہ یہ سلسلہ حالیہ حکومت تک محدود نہیں۔ 2016 میں سपा دور میں وزیرِ اقلیتی امور آزم خان نے ضلع سطح پر مدارس کی منظوری معطل کی تھی۔ اس کے بعد ریاستی سطح پر علما اور الٰیہ تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن روکی گئی تھی۔ آج کی نئیم حکومتی کارروائی اسی رویے کا عکاس ہے، جو “مسلمانوں کے خلاف تعلیمی اجارہ داری” قائم کرنے کی سازش ہے۔
قانونی اور آئینی مباحث
آئینی دفعات
آئینِ ہند کے آرٹیکل 30 کے تحت تمام اقلیتوں کو ثقافتی اور تعلیمی ادارے چلانے کا محافظانہ حق حاصل ہے۔ حکومت صرف انہی مدارس کو بند کر سکتی ہے جو سرکاری گرانٹ کے غلط استعمال کے مرتکب ہوں، نہ کہ پوری کمیونٹی کو تعلیمی مراکز سے دور رکھنے کے لیے۔
ممکنہ قانونی چارہ جوئی
مولانا رضوی نے واضح کیا کہ اگر ضلعی انتظامیہ نوٹس واپس نہ لے یا رجسٹریشن کے لیے مناسب رہنما اصول مرتب نہ کرے تو وہ سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ Allahabad High Court نے حالیہ فیصلے میں مدارس کے حقوق کو مستحکم کیا تھا اور اسے اکثر وسائل سے محروم کرنے کی اجازت نہیں دی۔
عوامی ردعمل اور ذرائع ابلاغ
سوشل میڈیا پر بھی اس موضوع پر تنازعہ بڑھتا جا رہا ہے۔ بعض صارفین نے انتظامیہ کے اقدامات کو “تعلیمی ظلم” قرار دیا، تو کچھ نے مذہبی مدارس کی شفافیت پر سوال اٹھائے۔ اردوپلیس سمیت متعدد ذرائع نے حکومتی حکمتِ عملی پر کڑی تنقید کی ہے۔
آگے کا منظرنامہ
اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اضلاع میں تعلیمی معیارات و قوانین کی پاسداری کے لیے کون سے نئے ضابطے نافذ کرتی ہے اور مدارس انتظامیہ کے ساتھ مشاورت کے بغیر کوئی قدم اٹھائے گی یا نہیں۔ مولانا رضوی سمیت کئی علما اور والدین کا مطالبہ ہے کہ کسی بھی تعلیمی ادارے کو بند کرنے سے پہلے شفاف آڈٹ اور متبادل راستہ تجویز کیا جائے۔
(رپورٹ: اردوپلیس نیوز بیورو)