India - July 23, 2025

Maharashtra Politics ’یہ زبان نہیں، تشدد ہے…‘ — شںکرآچاریا کا راج ٹھاکرے پر تہلکہ خیز حملہ

’یہ زبان نہیں، تشدد ہے…‘ شںکرآچاریا کا راج ٹھاکرے پر کھلا چیلنج

📌 اہم نکات

شںکرآچاریا آویمکتے شوارانند کے مطابق زبان کے نام پر تشدد کرنے والے ایک دن اکیلے رہ جائیں گے۔

2006 کے بم دھماکوں کی عدالتی تاخیر اور حکم پر بھی انہوں نے سوال اٹھایا۔

گائے کے گوشت اور تِروپتی مقدس لڈو کے احکامات پر تنازع پر مذہبی رہنماؤں کو چاہیے واضح ہدایات دیں۔

پس منظر اور منظرنامہ

ممبئی کے صوفیانہ ضیافت میں جب زبان کا معاملہ بڑھ کر تشدد میں بدل گیا، تو آنکھوں نے دیکھا کہ جلوسوں کے ساتھ ہاتھوں میں ڈنڈے اور نعرے تھے، الفاظ نہیں۔ شاید… یہی وجہ تھی کہ شںکرآچاریا آویمکتے شوارانند نے زبان کو تشدد قرار دے دیا۔

’’یہ تشدد نہیں تو کیا ہے؟’’

بدھ کے روز پریس کانفرنس میں شوارانند نے کھلی فضا میں اعلان کیا: “جب زبان پر بات تشدد بن جائے، تو ایسے لوگ ایک دن اکیلے رہ جائیں گے۔” کیا کوئی اور راستہ بھی تھا؟

2006 بم دھماکہ: عدالتی نظام پر سوالیہ نشان

انہوں نے 2006 کے ممبئی دھماکوں کے مقدمے پر انصاف کےخون کے قطرے پوچھے: “گیارہ سال میں فیصلہ آنا بھی فیصلہ ہے؟ اب تک گواہیاں کیوں نہیں سنی گئیں؟” شاید… نہیں، یقیناً ایسا ہی تھا کہ عدالت کے طویل عمل نے مرنے والوں کو انصاف دلانے کے بجائے دھیر کر دیا۔

گائے اور مقدس لڈو: مذہبی حساسیت یا سیاسی کھیل?

گومشتری اور سپلائی کے معاملے پر سوال اٹھاتے ہوئے آویمکتے شوارانند نے استفسار کیا کہ ریاستی پروٹوکول میں گائے کے کھانے اور پینے کا ضابطہ کیوں نہیں؟ اس ہدایت کو وزیرِاعلیٰ اور متعلقہ وزیر تک پہنچایا جائے گا۔

تِروپتی لڈو پر عدالت کا فیصلہ

سپریم کورٹ میں دائر عرضی کے حوالے سے انہوں نے کہا: “شبدہ خالص گھی میں لڈو تیار کرنے کا حکم واپس لیا گیا۔” تو کیا مقدس بھی خالصیت کی محتاجی کا شکار ہو گئی؟

سوشل اور سیاسی ردعمل

ذرائع “UrduPlace” کی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر بھی بحث جوش میں ہے۔ کچھ صارفین نے سوال اٹھایا کہ کیا زبان کی صفائی انصاف یا انتقام کے لیے استعمال ہو رہی؟

متنازعہ بیانات اور اگلا منظر

شوارانند نے کبوتروں کی غذا ڈالنے سے پیدا ہونے والی بیماریاں اور عدالتی چارہ جوئی پر طنز کیا: “کیا انسان کو ہی ہٹا کر کبوتروں کو بچا لیں؟” خاموشی کبھی معنی رکھتی ہے۔

جہاں ایک طرف سخت گیر بیانات ہیں، وہیں امید کا دیا بھی جل رہا ہے کہ گہا رائے اور قانون کی پاسداری کے دم پر امن کو ٹھیس نہ پہنچے۔

اگر کسی نے انصاف کے حق میں آواز اٹھانی ہے، تو تشدد کی زبان چھوڑ کر ہمت کی زبان اپنانی ہوگی۔


اگر ہمت نہ کی تو سماجی بانڈ ٹوٹ جائیں گے۔

(رپورٹ: اردوپلیس نیوز بیورو)

Nida Khan Nida Khan

Nida Khan is a veteran journalist covering Indian elections, caste politics, and public policy. With over a decade of experience reporting from ground zero, she brings sharp political insight and factual depth to every article she authors at UrduPlace.

Scroll to Top