India - July 1, 2025

India Pakistan prisoner Exchange امید کی کرن: بھارت اور پاکستان نے قیدیوں اور ماہی گیروں کی فہرستیں تبادلہ کر لیں، کیا اب رہائی کے دروازے کھلیں گے؟

📌 اہم نکاتبھارت نے پاکستان کو 382 شہری قیدیوں اور 81 ماہی گیروں کی فہرست دی، پاکستان نے 53 قیدیوں اور 193 ماہی گیروں کی فہرست جاری کیبھارت کا پاکستان سے فوری مطالبہ: 159 ہندوستانی قیدیوں کو رہا کیا جائے جنہوں نے سزا پوری کر لی2008 کے معاہدے کے تحت ہر چھ ماہ بعد فہرستوں کا تبادلہ، گزشتہ دس سالوں میں 2,661 ماہی گیروں کو وطن واپسی

فہرستوں کے تبادلے کی پشت پر کہانی

سرحدیں آہنی ہو سکتی ہیں مگر انسانی جذبوں کی لہریں انہیں پار کر ہی لیتی ہیں۔ جب بھارت اور پاکستان ہر چھ ماہ بعد قیدیوں اور ماہی گیروں کی فہرستوں کا تبادلہ کرتے ہیں، تو سینکڑوں خاندانوں کی آنکھوں میں واپسی کی امید جاگ اٹھتی ہے۔ یہ صرف کاغذات کا لین دین نہیں، بلکہ ان جکڑے ہوئے ہاتھوں کی آزادی کی پہلی سیڑھی ہے جو غلطی سے یا حد پار کرنے پر دوسرے ملک کی حراست میں ہیں۔

تازہ ترین اعداد و شمار

ذرائع کے مطابق، اس بار بھارت نے پاکستان کو 382 شہری قیدیوں اور 81 ماہی گیروں کی تفصیلی فہرست فراہم کی ہے جو پاکستانی جیلوں میں مقید ہیں۔ جواباً پاکستان نے 53 بھارتی شہری قیدیوں اور 193 ماہی گیروں کی فہرست دی ہے جو بھارتی حراست میں ہیں۔ یہ تبادلہ 2008 کے دوطرفہ قونصلر رسائی معاہدے کے تحت ہوا جو دونوں ممالک کو ہر سال یکم جنوری اور یکم جولائی کو فہرستیں شیئر کرنے کا پابند کرتا ہے۔

بھارت کے اہم مطالبات

بھارتی وزارت خارجہ نے پاکستان سے فوری طور پر 159 ہندوستانی شہریوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے جنہوں نے اپنی سزائیں پوری کر لی ہیں۔ ساتھ ہی 26 ایسے افراد کو قونصلر رسائی دینے کی درخواست کی گئی ہے جن کی شہریت کے بارے میں ابھی تک تصدیق نہیں ہو سکی۔ بھارت نے اس بات پر زور دیا کہ ان افراد کو اپنے خاندانوں سے رابطہ کرنے کا حق دیا جائے۔

انسانی ہمدردی کا پہلو

بھارت نے یہ بھی وعدہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ مکمل تعاون کرے گا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق، “ہم نے پاکستان سے 80 ایسے قیدیوں کی قومیت کی تصدیق کرنے کو کہا ہے جو بھارتی جیلوں میں ہیں اور پاکستانی شہری ہونے کا شبہ ہے۔ جیسے ہی تصدیق ہوگی، ہم انہیں واپس بھیج دیں گے۔”

گزشتہ کامیابیاں

2008 کے معاہدے کے بعد سے اب تک کل 2,661 بھارتی ماہی گیر اور 71 شہری قیدی پاکستان سے واپس آ چکے ہیں۔ صرف 2023 سے اب تک 500 ماہی گیروں اور 13 شہری قیدیوں کو رہائی ملی ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ انسانی ہمدردی کی یہ کوششیں رنگ لاتی رہی ہیں۔

ماہی گیروں کے مسائل

سندھ اور گجرات کے ساحلی علاقوں میں ماہی گیری کرنے والے اکثر سمندری حدود پار کر جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق سمندری سرحدوں کی واضح نشاندہی نہ ہونا اس مسئلے کی بنیادی وجہ ہے۔ کراچی یونیورسٹی کے پروفیسز ر احمد علی کا کہنا ہے کہ “دونوں ممالک کو چاہیے کہ وہ ماہی گیروں کی تربیت کریں اور جدید GPS سسٹم فراہم کریں تاکہ وہ سمندری حدود کا تعین کر سکیں۔”

خاندانوں کی آوازیں

گجرات کے ساحلی گاؤں میں رہنے والی شانتی بہن کے بیٹے نے 2019 میں ماہی گیری کے دوران غلطی سے سرحد پار کر لی تھی۔ وہ کہتی ہیں “تین سال سے میں اپنے لال کی ایک تصویر کے سہارے جی رہی ہوں۔ ہر فہرست کے تبادلے پر میرا دل دھڑکتا ہے کہ شاید اس بار میرا نام ہو۔” ایسی ہی کہانیاں دونوں طرف کے سینکڑوں گھروں میں سنی جا سکتی ہیں۔

بین الاقوامی ردعمل

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ “یہ انسانی ہمدردی کی عکاسی ہے۔ دونوں ممالک کو چاہیے کہ وہ تمام قیدیوں کو فوری طور پر رہا کریں جنہوں نے معمولی نوعیت کے جرائم کا ارتکاب کیا تھا۔”

(رپورٹ: اردوپلیس نیوز بیورو)

Nida Khan Nida Khan

Nida Khan is a veteran journalist covering Indian elections, caste politics, and public policy. With over a decade of experience reporting from ground zero, she brings sharp political insight and factual depth to every article she authors at UrduPlace.

Scroll to Top