’ساہس تھا یا وقوعہ؟‘ — ہارن اوکے پلیز کے سیٹ پر تنوشری دتّا کا نیا جنسی ہراسانی الزام
📌 اہم نکات
– تنوشری دتّا نے ’ہارن اوکے پلیز‘ کے 2008 کے سیٹ پر نانا پاٹےکر پر دوبارہ جنسی ہراسانی کا الزام عائد کیا۔
– 2019 میں مجسٹریٹ عدالت نے شواہد نہ ملنے پر مقدمہ خارج کیا؛ مارچ 2025 میں یہ فیصلہ برقرار رہا۔
– سوشل میڈیا پر ’#MeToo‘ تحریک کے دوبارہ ابھرنے کے بعد مداح اور فنکاروں نے دو حصوں میں اپنا ردعمل دیا۔
کہانی کا پس منظر
وہ دن 2008 کے موسم گرما کا تھا جب بالی وڈ فلم ’ہارن اوکے پلیز‘ کی شوٹنگ ممبئی کے ایک پرانے اسٹوڈیو میں جاری تھی۔ سنیما ہال کے پروڈکشن ڈیزائن میں مصروف تنوشری دتّا نے ایک رقصی گانے کے دوران مبینہ طور پر نامور اداکار نانا پاٹےکر کی جانب سے نامناسب رویے کا سامنا کیا۔ شاید… اس وقت کون سوچ سکتا تھا کہ یہ لمحہ نو سال بعد پھر سنیما کی دنیا میں ہلچل مچا دے گا؟
لیکن یہ صرف ایک ”سین“ نہیں تھا — اس میں انسانی عزتِ نفس کا سوال تھا۔ تنوشری نے پہلی بار 2018 میں ’#MeToo‘ تحریک کے دوران آواز اٹھائی، اور پھر 2019 میں معاملہ قانون کی عدالت تک پہنچا۔
عدالتی راہداری کا سفر
تنوشری دتّا نے 2018 میں پولیس کو درخواست دی کہ نانا پاٹےکر نے ’ہارن اوکے پلیز‘ کے سیٹ پر انہیں ہراساں کیا۔ پولیس نے وقوعہ کے نوٹس کے بعدتفتیش مکمل کر کے 2019 میں مجسٹریٹ عدالت میں رپورٹ پیش کی۔ عدالت نے کہا کہ ’شواہد ناکافی ہیں، ملزم کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا‘ اور کیس خارج کردیا گیا۔
مارچ 2025 میں بھی اسی فیصلے کی تصدیق ہوئی جب ایک مجسٹریٹ عدالت نے دوبارہ درخواست خارج کردی۔ لیکن تنوشری دتّا نے کہا: ”ہم ہر دروازہ کھٹکھٹائیں گے… انصاف چاہیے۔“ شاید نہیں، یقیناً ایسا ہی ہے۔
سوشل میڈیا ردعمل
یوں تو ہر خبر پر ٹوئیٹر اور انسٹاگرام کا طوفان اٹھتا ہے، لیکن اس بار #MeToo ہیش ٹیگ نے دوبارہ گردش پائی۔ کچھ شائقین نے کہا: ”ہماری آوازوں کو دبایا نہیں جا سکتا۔“ تو کچھ نے تنقید بھی کی: ”کیچڑ اچھالنے کا رجحان خطرناک ہے۔“
[image:0c39d3bc3c3fcb74fe3618a85887cf2f1753259609031587_original.jpg?impolicy=abp_cdn&imwidth=1200]
فنکاروں کا موقف
ذرائع بتاتے ہیں کہ چند بالی وڈ اداکاروں نے تنوشری کا ساتھ دیا، تو کچھ نے سوال اٹھایا کہ ثبوت کہاں ہیں؟ اردوPlace سے بات کرتے ہوئے ایک نام نہاد امیجر اداکار نے کہا: ”انصاف کے بغیر جشن بھی سونی ہوتا ہے۔“
یہ منظر کسی فلمی سین سے کم نہیں — دو دھڑوں میں بٹی سنیما کمیونٹی، اور ہر طرف ہجوم، وہیں خاموشی۔
قانونی پیچیدگیاں
بھارت میں جنسی ہراسانی کے قوانین ’دینے والا جرم‘ کے تحت سخت ہیں، لیکن ’رابطہ اور شواہد‘ پر پورا اترنا ضروری ہے۔ جہاں ایک طرف قانون کا شکنجہ سخت ہے، وہیں امید کا دیا بھی جل رہا ہے کہ تبدیلی آئے گی۔
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جنسی ہراسگی کے الزامات صرف قانونی جنگ نہیں بلکہ سماجی شعور کی جنگ ہیں۔
سماجی اور ثقافتی اثرات
ہمارے معاشرے میں خواتین کے خلاف جرائم پر خاموشی توڑنا لازمی ہے۔ کیس خارج ہونے کے بعد بھی ہر عورت کے لیے یہ ”ایک مثال“ بن جاتا ہے۔
لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی… اگر خون بہا کی رقم جمع نہ ہوئی، تو آنے والا ہفتہ کسی اور متاثرہ فرد کی زندگی کا آخری ہو سکتا ہے۔
کیا آگے کیا ہوگا؟
تنوشری دتّا نے اعلان کیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ جائیں گی۔ شاید… ویسے، یہ تو سب جانتے ہیں کہ بالآخر عدالت ہی فیصلہ کرے گی۔
یہ کیس قانون کی کتابوں میں تو بس ایک باب ہے، مگر ہر متاثرہ فرد کے لیے ایک جنگ ہے۔
اگر تانتھریک سوچ کو نہ روکا گیا، تو جانے کتنے لوکیشنز اور قربان ہوں گے۔
(رپورٹ: اردوپلیس نیوز بیورو)