Crime and Law - July 23, 2025

Fake Embassy Exposed ’چار ملک مجھے تسلیم کرتے؟‘ — گڑھیآباد میں افسانوی سفارت خانے کا سچے دھوکا

گڑھیآباد میں چار نقلی سفارت خانے، سارا دھوکا بے نقاب

📌 اہم نکات

گڑھیآباد کے عالی شان بنگلے میں چار فرضی ممالک کے ’سفارت خانے‘ کا دھوکا پکڑا گیا

ہارشوردھن جین نے بے روزگار شہریوں کو بیرون ملک بھیجنے کا جھانسہ دے کر کروڑوں روپے ہتھیائے

STF نے لاکھوں نقد، بیرون ملک کرنسی، جعلی پاسپورٹ اور ڈپلوماٹک نمبر پلیٹیں برآمد کیں

احساسِ دھوکہ — ایک کوٹھری کا راز

وہ شاید خود بھی بھول گیا تھا… مگر کوٹھری کی رہنمائی میں لگی چار مختلف جھنڈیاں ہمیشہ سچائی کو چُھپا نہ سکیں۔

گڑھیآباد کے کوئننگھر علاقے میں واقع اس حویلی کا منظر فلمی سین جیسا تھا — باہر مہنگی گاڑیاں، تمام پر جعلی ڈپلوماٹک نمبر پلیٹیں، اندر چار ’ملکوں‘ کے جھنڈے۔ لیکن یہ کوئی بین الاقوامی مرکز نہیں، بلکہ ہارشوردھن جین کا بنایا ہوا بڑے پیمانے پر فراڈ کا اڈہ تھا۔

کیا تھا ہارسوردھن کا ’مشن‘؟

کچھ لوگ کہتے ہیں… وہ خود کو چار فرضی اقوام کا سفیر اور قونصل ثابت کرتا تھا۔ یہی بنیاد بنی نوجوانوں کو بیرون ملک روزگار کے لالچ میں پھنسانے کی۔ لوگوں سے لاکھوں روپے لے کر روانگی کے وعدے کئے گئے، لیکن نہ کسی ملک نے ویزا دیا اور نہ کوئی ٹکٹ۔

سچ سامنے کیسے آیا؟

ایک زیرِ تعزیر ملزم کی شکایت نے STF کو حرکت میں لایا۔ ٹریس کے دوران بنگلے سے برآمد ہونے والی اشیائے چت نے سب کو حیران کر دیا:

  • ٤ لگژری گاڑیاں جن میں سب پر ڈپلوماٹک نمبر پلیٹ
  • ٤ فرضی ملکوں کے ١٢ ڈپلوماٹک پاسپورٹ اور وزارتِ خارجہ کی جعلی مُہر
  • ٢ جعلی PAN کارڈ، ٢ جعلی پریس کارڈ
  • ٤٤.٧ لاکھ روپیہ نقد اور مختلف ملکوں کی مطلعِ زر
  • ٣٤ مختلف ڈپلوماٹک مُہریں اور کئی شیل کمپنیوں کے کاغذات

لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی… ان پاسپورٹوں اور مہرؤں کے پیچھے چھپا وہ نیٹ ورک بڑا خطرناک نکلا، جس میں مبینہ طور پر غیر ملکی مجرم بھی شامل تھے۔

قانون کی گرفت

STF کے ایک سینئر افسر نے بتایا: “یہ رینکت منظم تھی، قومی سلامتی کے لئے سنگین خطرہ۔ ہم بین الاقوامی شراکت داروں سے معلومات بھی شیئر کر رہے ہیں۔” مقدمہ توہینِ ثبوت اور قومی تحفظ کے خلاف دفعات کے تحت درج کیا گیا، اور پوچھ گچھ جاری ہے۔

مقامی ردِ عمل

گڑھیآباد کے باشندے صدمے میں ہیں۔ “ہمیں تو پہلے خیال بھی نہ تھا کہ ہماری بستی میں ایسا بھی ہو سکتا ہے…” ایک شہری نے بتایا۔ دوسری جانب، متاثرین کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی پوری جمع پونجی اس فراڈی کو دے دی تھی۔

ایسا لگتا تھا جیسے وقت تھم گیا ہو۔ کہیں سیاسی پشت پناہی… کہیں بین الاقوامی شراکت داری… مگر سب خواب تھے، اور خواب ٹوٹ گئے۔

عبرتِ قوم

یہ واقعہ ہمیں ایک دردناک سچائی سے روشناس کراتا ہے: ظاہری شان و شوکت کسی بھی دھوکے کو چھپا نہیں سکتی۔ اگر احتیاط نہ کی گئی، تو کون جانے اور کون سے انسان اس جال میں پھنس جائے؟

(رپورٹ: اردوپلیس نیوز بیورو)

Zubair Ansari Zubair Ansari

Zubair Ansari specializes in legal reporting, covering crime, high-profile court cases, and justice delivery systems from state capitals and metropolitan cities across India.

Scroll to Top