📌 اہم نکات2025-26 مالی سال میں اوسط افراط زر 3.2 فیصد رہنے کا امکانبہتر مون سون اور مسلسل تیسری سال بھرپور اناج پیداوار کی وجہ سے خوراک کی مہنگائی کمکسانوں کی اجرتوں میں 8 فیصد اضافے سے دیہی معیشت کو تقویت ملنے کی توقع
مہنگائی میں کمی کیوں ممکن ہوئی؟
HSBC گلوبل انویسٹمنٹ ریسرچ کی تازہ رپورٹ کے مطابق، ملک میں افراط زر کی شرح میں واضح کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اگلے چھ مہینوں کے دوران خوراک کی اشیاء کی قیمتوں میں استحکام برقرار رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے جس کی بڑی وجہ گزشتہ تین سالوں سے لگاتار بہتر اناج کی پیداوار اور اس سال مون سون کی بہتر کارکردگی ہے۔
خوراک کی مہنگائی پر قابو پانے کے اہم عوامل
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ خوراک کی اشیاء کی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے درج ذیل عوامل اہم کردار ادا کر رہے ہیں:
مون سون کی بہتر کارکردگی
اس سال جون تک ملک میں بارشوں کا تناسب معمول سے 9 فیصد زیادہ رہا ہے۔ شمال مغربی اور وسطی ہندوستان میں خاص طور پر بہتر بارشوں نے نہ صرف کھڑی فصلوں کو فائدہ پہنچایا ہے بلکہ آنے والے موسم میں آبپاشی کے لیے آبی ذخائر کو بھرنے میں بھی مدد دی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق جولائی اور اگست میں بھی معمول سے زیادہ بارشوں کا امکان ہے۔
اناج کے ذخائر میں اضافہ
گزشتہ مالی سال 2024-25 میں ملک میں ریکارڈ اناج پیداوار ہوئی جس کے نتیجے میں سرکاری گوداموں میں ذخائر کافی حد تک محفوظ سطح پر ہیں۔ یہ ذخائر آنے والے مہینوں میں قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے اہم ثابت ہوں گے۔
بوائی کے رقبے میں اضافہ
20 جون تک ملک میں 1.4 کروڑ ہیکٹر سے زیادہ رقبے پر بوائی کا عمل مکمل ہو چکا ہے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 10 فیصد زیادہ ہے۔ چاول، دالیں اور دیگر اناج کی فصلوں کے رقبے میں خاص اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، تاہم تیل کے بیجوں کی بوائی میں کچھ سست روی دکھائی دی ہے۔
مرکزی افراط زر پر مثبت اثرات
رپورٹ کے مطابق خوراک کی مہنگائی میں کمی کے علاوہ درج ذیل عوامل مرکزی افراط زر کو بھی کنٹرول میں رکھیں گے:
- بھارتی روپے کی قدر میں اضافہ
- عالمی منڈی میں خام مال کی قیمتوں میں گراوٹ
- چین سے درآمدی افراط زر میں کمی
- گزشتہ سال کے مقابلے میں معاشی نمو میں قدرے سست روی
دیہی معیشت پر خوشگوار اثرات
بہتر زرعی صورتحال کے مثبت اثرات کسانوں اور مزدوروں کی آمدنی پر بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ اپریل میں زرعی مزدوری میں 8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو پچھلے 6.5 فیصد کے مقابلے میں نمایاں بہتری ہے۔ مہنگائی میں کمی کی وجہ سے مزدوروں کی حقیقی آمدنی میں بھی اضافہ ہوا ہے جس سے دیہی علاقوں میں صارفین کی خریداری کی استعداد بڑھنے کی توقع ہے۔
ماہرین معیشت کا نقطہ نظر
معاشی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ مثبت رجحان ہندوستانی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ “خوراک کی مہنگائی میں کمی نہ صرف غریب طبقے کو ریلیف فراہم کرے گی بلکہ ریزرو بینک کو سود کی شرحوں میں کمی کا موقع بھی دے گی جس سے سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا”۔
آنے والے چیلنجز
اگرچہ موجودہ صورتحال حوصلہ افزاء ہے لیکن ماہرین عالمی سیاسی عدم استحکام اور تیل کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کو مسلسل نگرانی کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ “مون سون کی باقی مدت کا کارکردگی اور عالمی منڈیوں کے رجحانات قیمتوں پر حتمی اثرات کا تعین کریں گے”۔
(رپورٹ: اردوپلیس نیوز بیورو)