📌 اہم نکاتبھارت میں گلوٹاتھیون مارکیٹ 114 کروڑ روپے سے تجاوز کر چکی، سالانہ 13% رفتار سے بڑھ رہیاسکن برائٹننگ انڈسٹری کا کل حجم 1600 کروڑ روپے، 2033 تک 4000 کروڑ تک پہنچنے کا امکانگریین ویل لائف سائنسز، زیگزا ہیلتھ کیئر سمیت 8 بڑی کمپنیاں صارفین کو نشانہ بنا رہیں
شیفالی جریوالا اور گلوٹاتھیون کا راز
42 سال کی عمر میں بھی چمکدار جلد کے لیے مشہور شیفالی جریوالا کی خوبصورتی کا راز ورزش کے ساتھ ساتھ گلوٹاتھیون نامی دوا بتایا جاتا ہے۔ ان کی طرح لاکھوں بھارتی شہری جلد کی رنگت نکھارنے والی اس دوائی پر انحصار کر رہے ہیں، جو اب 114 کروڑ روپے کی صنعت بن چکی ہے۔
گلوٹاتھیون کیا ہے؟
یہ قدرتی اینٹی آکسیڈنٹ جسم میں خود بنتا ہے، لیکن گولیاں یا انجیکشنز کے ذریعے لیے جانے پر جلد کی رنگت ہلکی کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق اس کے غیرضروری استعمال سے جگر کے مسائل، گردے خراب ہونے اور جلد کی حساسیت جیسے مضر اثرات بھی سامنے آئے ہیں۔
بھارت میں دھماکا خیز ترقی
ذرائع کے مطابق 2024 میں بھارت کا گلوٹاتھیون مارکیٹ 13.39 ملین ڈالر (114 کروڑ روپے) تک پہنچ گیا، جبکہ 13% سالانہ کی رفتار سے بڑھ رہا ہے۔ شہری علاقوں میں نوجوان لڑکیوں اور مردوں میں “گورا پن” کا جنون اس منافع بخش کاروبار کی بنیادی وجہ ہے۔
اہم کھلاڑی اور مارکیٹ شیئر
بھارت میں گلوٹاتھیون بنانے والی بڑی کمپنیوں میں شامل ہیں:
گریین ویل لائف سائنسز
مارکیٹ میں 22% شیئر کے ساتھ سر فہرست، جس کے صارفین میں بالی ووڈ شخصیات بھی شامل ہیں۔
زیگزا ہیلتھ کیئر
آن لائن فروخت میں سب سے آگے، جس کی سالانہ آمدن 35 کروڑ روپے تک پہنچی۔
دیگر اہم نام
ڈی ایم فارما، یاکسون بائیو کیئر، گلیشیر ویلمیں، سیٹو نیوٹریشن، کاربامائیڈ فورٹ اور ہربل میکس سمیت 5 دیگر کمپنیاں بھی اس مارکیٹ پر قابض ہیں۔
اسکن کیئر سپلیمنٹس کا کل منظر نامہ
گلوٹاتھیون صرف برف کا ایک ٹکڑا ہے۔ گرینڈ ویو ریسرچ کے مطابق:
موجودہ حجم
بھارت میں اسکن برائٹننگ مصنوعات کا کل بازار 220 ملین ڈالر (1600+ کروڑ روپے) ہے، جو 2025 میں ریکارڈ سطح پر پہنچ چکا ہے۔
مستقبل کے اندازے
2033 تک یہ مارکیٹ 481 ملین ڈالر (4000 کروڑ روپے) تک پہنچنے کا امکان ہے۔ وجہ؟ نوجوان نسل میں “گورے پن” کا بڑھتا ہوا جنون اور سوشل میڈیا پر خوبصورتی کے غیر حقیقی معیارات۔
ماہرین کی تشویش
ممبئی کے معروف ڈرمیٹالوجسٹ ڈاکٹر راجیو شرما کا کہنا ہے:
“گلوٹاتھیون کا غیرضروری استعمال ٹائم بم ہے۔ کلینیکل ٹرائلز کے بغیر فروخت ہونے والی یہ گولیاں گردوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتی ہیں۔”
صارفین کے جذبات
نئی دہلی کی رہائشی ثناء بیگم (25 سال) کا تجربہ:
“3 ماہ استعمال کے بعد جلد چمک گئی، لیکن اب مستقل سر درد اور متلی کی شکایت ہے۔ ڈاکٹر نے فوری بند کرنے کو کہا۔”
ریگولیٹری خلا
بھارتی ڈرگ کنٹرول اتھارٹی اب تک گلوٹاتھیون سپلیمنٹس کو باقاعدہ دوائی کی بجائے “غذائی ضمیمہ” درجہ دیتی ہے، جس کی وجہ سے معیار پر کوئی سخت نگرانی نہیں۔ اس قانونی خلا کا فائدہ کمپنیاں بے تحاشہ منافع کما کر اٹھا رہی ہیں۔
مزید بڑھتے ہوئے خطرات
2024 میں دہلی کے ایس جے ہسپتال میں گلوٹاتھیون کے 17 مضر اثرات کے کیس رپورٹ ہوئے۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ طویل مدتی استعمال سے:
- جگر کے افعال سست پڑنا
- گردے کی پتھری
- جلد کا پتلا ہو کر چمک کھو دینا
متبادل حل پر زور
ماہرین تجویز دیتے ہیں کہ مصنوعی سپلیمنٹس کی بجائے قدرتی ذرائع (پالک، ایواکاڈو، لہسن) سے گلوٹاتھیون حاصل کیا جائے۔ ساتھ ہی سن اسکرین کے استعمال اور پانی کی کافی مقدار کو ترجیح دی جائے۔
(رپورٹ: اردوپلیس نیوز بیورو)