اجے دیوگن اور شاہد آفریدی کی ’نئی‘ تصویر میں کیا ہے سچ؟
📌 اہم نکات
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصویر اصل میں جولائی 2024 کی ہے، نہ کہ WCL 2025 سے تعلق رکھتی ہے۔
تصویر میں اجے دیوگن و شاہد آفریدی ایک تقریب کے دوران ملے تھے، میچ کا واقعہ رشتہ نہیں رکھتا۔
دعوے کرنے والے صارفین نے غلط وقت اور سیاق و سباق پیش کر کے ملک پرست جذبات بھڑکائے۔
واقعہ کیا تھا؟
20 جولائی 2025 کو متوقع تھا کہ ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز (WCL) کے سلسلے میں انڈیا اور پاکستان لیجنڈز کے درمیان میچ برمنگھم کے ایجبسٹن سٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔ لیکن شدت پسندانہ تنقید کے بعد منتظمین نے اچانک اعلان کیا کہ یہ مقابلہ ملتوی کر دیا گیا ہے۔
لیکن شاید… وہ سب سے زیادہ وائرل تصویر کچھ اور بیان کر رہی تھی۔ تصویر میں اجے دیوگن اور پاکستان کے لیجنڈ کرکٹر شاہد آفریدی قہقہے لگاتے اور گفتگو کرتے دکھائی دے رہے تھے۔ سوشل میڈیا صارفین نے اسے حالیہ لمحے کا شاہکار قرار دے کر تنقید کی بوچھاڑ شروع کر دی۔
تصویر کی حقیقت
اس ’حالیہ‘ تصویر کی حقیقت جاننے کے لیے ہم نے واپس ماضی کے ریکارڈ کھنگالے۔ ANI نے 6 جولائی 2024 کو ایک خبر شائع کی تھی جس میں بتایا گیا کہ اجے دیوگن نے WCL کی تقریب میں شاہد آفریدی سے ملاقات کی تھی۔ ویڈیو اور تصویریں بالکل اسی لباس میں تھیں جیساکہ وائرل تصویر میں نظر آیا — اس نے دعوے کی ہوا پوری طرح گرادی۔
مزید برآں، فیس بک پر ایک پوسٹ میں بھی یہی مناظرات دکھائے گئے، جسے دیکھ کر واضح ہو گیا کہ یہ منظر پرانا ہے، حالیہ نہیں۔ پس گردانی میں غلط نتائج کا ذمہ دار صرف سوشل میڈیا کا بے بصیرت اشتراک تھا۔
سوشل میڈیا ردعمل
ٹوئٹر صارف @div_yumm نے اس تصویر کو غلط دعوے کے خلاف واپس کرنے کی کوشش کی:
یہ تصویر تو پرانی ہے! ہجوم کو بے وجہ بھڑکائیں مت، حق جانئے۔
ماہرین کا تجزیہ
’جب سیاق و سباق بدل جائے، تو ہم پرستشمیں بے سمت ہو جاتے ہیں،‘ تجزیہ کار نذیر احمد نے کہا۔ ’سوشل میڈیا میں تصدیق سے پہلے شیئر کرنے کا رجحان زیادہ خطرناک ہے۔‘
کیا سوشل میڈیا ذمہ دار ہے؟
شاید… نہیں، یقیناً ایسا ہی تھا۔ غیر مصدقہ خبریں پھیلنے کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا۔ عوام کو خود حقیقت جاننے کے لیے ذرائع کی تصدیق کرنی چاہیے۔
اسی لیے: اگر تصویر، ویڈیو یا دعویٰ دیکھیں تو پہلے اصل ماخذ دیکھیں، پھر تبصرہ کریں۔ ورنہ — یہ آموزگار سبق بس اتنا ہے: ہر ’حالیہ‘ خبر واقعی نئی نہیں ہوتی۔
(رپورٹ: اردوپلیس نیوز بیورو)