برطانیہ نے ووٹنگ کی عمر گھٹائی، 16 سالہ نوجوانوں کو ملے گا ووٹ کا حق
📌 اہم نکاتبرطانیہ میں ووٹنگ کی عمر 18 سے کم کر کے 16 سال کر دی گئی، 16 لاکھ نوجوان نئے ووٹر بنیں گےآسٹریا، ارجنٹائن، برازیل سمیت 9 ممالک پہلے ہی 16 سالہ نوجوانوں کو ووٹ کا حق دیتے ہیںدنیا کے 180 سے زائد ممالک بشمول بھارت، پاکستان اور امریکہ میں ووٹنگ کی کم از کم عمر 18 سال ہے
برطانیہ کا تاریخی فیصلہ
برطانیہ کی حکومت نے جمہوریت میں نوجوانوں کی شمولیت بڑھانے کیلئے ایک انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے ووٹنگ کی عمر 18 سے گھٹا کر 16 سال کر دی ہے۔ یہ فیصلہ 50 سال بعد آیا ہے جب 1970 کی دہائی میں ووٹنگ کی عمر 21 سے کم کرکے 18 کی گئی تھی۔ اس تبدیلی کے بعد ملک کے 16 لاکھ 16 اور 17 سالہ نوجوان اگلے عام انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے اہل ہو جائیں گے۔
کیوں اہم ہے یہ اقدام؟
برطانوی وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ “یہ قدم نوجوانوں کے ساتھ انصاف کرنے اور جمہوری عمل میں ان کی شرکت کو یقینی بنانے کیلئے اٹھایا گیا ہے”۔ ماہرین سیاسیات کے مطابق یہ فیصلہ برطانیہ میں 1948 کے بعد ووٹر فہرست میں سب سے بڑا اضافہ ہوگا۔
ماضی میں کب بدلی ووٹنگ عمر؟
برطانیہ میں 1918 میں پہلی بار خواتین کو ووٹ کا حق دیا گیا جبکہ 1928 میں ووٹنگ عمر 21 سال مقرر ہوئی۔ 1969 میں اسے 18 سال کیا گیا، اور اب 55 سال بعد اسے 16 سال کر دیا گیا ہے۔
سکاٹ لینڈ اور ویلز میں پہلے سے رائج
برطانیہ کے دو حصوں سکاٹ لینڈ اور ویلز میں مقامی اسمبلی انتخابات میں پہلے ہی 16 سالہ نوجوان ووٹ ڈال سکتے تھے۔ تاہم اب یہ قانون پورے برطانیہ بشمول انگلینڈ اور شمالی آئرلینڈ میں نافذ العمل ہوگا۔
دنیا بھر میں ووٹ ڈالنے کی عمریں
16 سال کی عمر میں ووٹ ڈالنے والے ممالک
برطانیہ اس سلسلے میں پہلا ملک نہیں ہے۔ آسٹریا، ارجنٹائن، برازیل، مالٹا، کیوبا، ایکواڈور، نکاراگوا اور برطانیہ سے منسلک جزائر آئل آف مین، گرنزی، جرسی میں بھی 16 سالہ شہری ووٹ ڈال سکتے ہیں۔ برازیل میں 16-17 سالہ نوجوانوں کیلئے ووٹ ڈالنا اختیاری ہے جبکہ 18 سے 70 سال تک ووٹنگ لازمی ہے۔
17 سالہ ووٹرز والے ممالک
یونان، انڈونیشیا، شمالی کوریا اور تیمور لیسٹے میں ووٹنگ کی کم از کم عمر 17 سال ہے۔ یونان میں 2016 سے نافذ اس قانون کے تحت اگر کسی شخص کی عمر انتخابی سال میں 17 سال ہو رہی ہو تو وہ ووٹ ڈال سکتا ہے۔
18 سال: عالمی معیار
دنیا کے 180 سے زائد ممالک بشمول بھارت، پاکستان، امریکہ، چین، جاپان، فرانس، جرمنی، روس، بنگلہ دیش، سعودی عرب، آسٹریلیا اور کینیڈا میں ووٹنگ کی عمر 18 سال ہے۔ آسٹریلیا، پیرو اور بولیویا میں نہ صرف ووٹنگ عمر 18 سال ہے بلکہ ووٹ ڈالنا لازمی بھی ہے۔
21 سال یا زائد عمر والے ممالک
متحدہ عرب امارات، سنگاپور، لبنان، عمان، کویت، ساموآ، ٹونگا اور ٹوکیلاؤ میں ووٹنگ کی عمر 21 سال یا اس سے زیادہ ہے۔ کویت میں صرف وہ شہری ووٹ ڈال سکتے ہیں جو 21 سال کے ہوں اور فوج یا پولیس میں نہ ہوں۔
جمہوریت پر کیا ہوگا اثر؟
سیاسی تجزیہ نگار ڈاکٹر سمیع الرحمان کا کہنا ہے کہ “نوجوانوں کو ووٹ کا حق دینا جمہوریت کو مضبوط بناتا ہے۔ برطانیہ کا یہ قدم دیگر ممالک کیلئے مثال بن سکتا ہے”۔ یاد رہے کہ بھارت اور پاکستان سمیت جنوبی ایشیائی ممالک میں ووٹنگ عمر 18 سال ہی برقرار ہے۔
برطانیہ کے اس فیصلے کو دنیا بھر میں نوجوانوں کے حقوق کی تحریک سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔ تازہ ترین اردو خبریں (Latest Urdu News) اور عالمی سیاسی تبدیلیوں کیلئے اردوپلیس ڈاٹ کام کو فالو کریں۔
(رپورٹ: اردوپلیس نیوز بیورو)